ریحام خان کی تقریر

ریحام خان نے اپنی پہلی سیاسی تقریر کل ہری پور میں کی۔ کہنے کو یہ ایک انتخابی تقریر تھی اور مجمع ایک کارنر میٹنگ سے کچھ ہی بڑا تھا مگر اسکی علامتی اور عملی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا جیسے ریحام نے خود کہا کہ پاکستان میں عورتوں کا سیاسی عمل میں حصّہ لینے کا رجحان کم ہی ہے اور وہ اس منفی رجحان کی حوصلہ شکنی کیلئے آئی ہیں۔ خواتین کا سیاست میں حصّہ کم یا نہ ہونے کا حوالہ بھی ایک ستم ظریفی ہے کہ ایک طرف ایک خاتون دو بار ملک کی وزیر اعظم رہ چکی ہیں تو دوسری طرف ایک پورے انتخابی حلقے میں خواتین کو ووٹ ڈالنے نہیں دیا جاتا، مقامی حکومتوں کے انتخابات میں سوات کے کئی حلقے اور صوبائی اسمبلی کیلئے ہونے والے انتخابات میں دیر پائیں کا حلقہ اسکی واضح مثالیں ہیں۔ آتے ہیں اس تقریر کی طرف جو ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے۔ دیکھنے والوں کو اس وقت مایوسی ہوئی جب ٹی وی کیمرے کے سامنے ‘دھاڑنے’ اور غضب اعتماد کے ساتھ گفتگو میں اپنی مہارت کا جادو جگانے والی ریحام خان سٹیج پر ‘میاؤں’ بھی ٹھیک طرح سے نہ کرسکیں۔ مواد کے لحاظ سے انکی تقریر ایک کھوکھلی کاوش تھی۔ انداز کو جانچتے ہوئے موازنہ کیا جائے تو ذہن حمزہ شہباز سے آگے نہیں جاتا۔ بہتر ہوتا محترمہ ٹیبل ٹاک کو ہی ترجیح دیتیں کہ اس میں انہیں ملکہ حاصل ہے یا پھر کارنر میٹنگز تک ہی محدود رہتیں کہ مقصد بہرحال تحریک انصاف کے امیدوار کیلئے حمایت کا حصول ہی تھا۔ انہوں نے پارٹی امیدوار کا ذکر کرتے ہوئے پار بار اُنکے خاندانی ہونے کا ذکر کیا اور اس بات کوانہیں ووٹ ضرور دینے کا ایک قوّی عامل قرار دیا۔ ڈاکٹر عامر زمان کے ایک مضبوط اور پُرانے سیاسی خانوادے سے تعّلق میں کوئی شک نہیں تاہم یہ ایک بیّین حقیقت ہے کہ “خاندانی” ایک ایسی اصطلاح ہے جس سے دھونس اور چودھراہٹ کے بھبوکے اُٹھتے ہیں۔ عمران خان کی تو سیاست کی پہلی اینٹ ‘غیر خاندانی’ فلسفے پر رکھی گئی ہے۔ انکی تو بُنیادی دلیل ہی یہ رہی ہے کہ مخصوص خاندان باریاں لیتے رہے ہیں۔ بار بار ‘خاندانی’ پر زور دینے سے کیا تحریک انصاف کے ان لاکھوں ‘غیر خاندانی’ پیروکاروں کے دل نہیں ٹوٹیں گے جنہیں تحریک انصاف پیپلز پارٹی سے توڑنے پر فخر کرتی آئی ہے۔ ہمارا اشارہ لاتعداد مزدوروں، رکشہ والوں اور چھابڑی لگانے والوں اور کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی طرف ہے جو اپنی محنت سے بہت کچھ حاصل کرچکے ہیں مگر ‘خاندانی’ کی تعریف پر پورا نہیں اُترتے۔

جہاں تک تقریر کی ادائیگی یا ڈیلیوری کا تعلق ہے تو ہم ایک بار پھر کہیں گے کوشش تھی کہ شیر کی دھاڑ اور چھنگاڑ نکلے مگر میاؤں بھی نہ بن سکی۔ کوئی گلوکار لاکھ سعی کرے سُر کے دیوتا نصرت فتح علی خان کی آواز نہیں نکال سکتا اور نہ ہی علی ظفر کی ‘مردانہ زنانہ’ انداز اپنا سکتا ہے۔ نور جہاں ملکہ ترنُم تو ریشماں روہی کی بُلبُل ۔۔۔ انداز اپنا اپنا ۔۔۔ معلوم نہیں ‘بھابی’ نے تقلید کیلئے کس کو چُنا؟ مارکیٹ میں تازہ ترین ہٹ تو الطاف حسین کا ‘قربانی بکرا ‘ سٹائل ہے تاہم لگتا ہے ریحام نے بینظیر کی نقل کرنے کی کوشش کی جو بے سود رہی ۔۔ اُنکی نگاہ ٹی وی کیمرے سے آگے اور اُنکی آواز ٹاک شو کے سٹوڈیو سے باہر نہ جاسکی۔  کہتے ہیں ایک سردار جی کو کہیں تقریر کرنی تھی، انہوں نے خود کو ریہرسل اور پریکٹس کے جانگسل مراحل سے گُزارا ۔۔۔ آخر میں ‘سپیچ انسٹرکٹر’ نے انہیں مشورہ دیا، “جب آپ تقریر کرنے کیلئے روسٹرم پر آجا ئیں تو فرض کریں آپکے سامنے کرسیوں پر گوبھی پڑے پیں، اس سے آپکا اعتماد بڑھے گا۔ یوم خاص پر سردارجی تقریر کرنے اُٹھے تو انہیں اپنے معدے میں تتلیاں اڑتی ہوئی محسوس ہوئیں اور آسمان میں دن کے وقت تارے نظر آئے تو مُڑ کر اپنے اتالیق سے کہنے لگے “سر جی! گوبھی گوبھی ہوتے ہیں اور بندے بندے ہوتے ہیں ۔۔۔ ” ریحام خان کو بھی  شاید کسی نے پٹّی پڑھائی تھی کہ گوبھیوں کے سامنے ہی تو بولنا ہے حالانکہ وہ زمانے لد چُکے۔۔۔ اور اسکا واضح ثبوت خیپر بختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔۔ ریحام روانی کے موتی پروتے ہوئے گویا تھیں، “کیا آپ جاگیرداروں کو ووٹ دینگے؟ کیا آپ غاصبوں کو ووٹ دینگے؟ کیا آپ قاتلوں کو ووٹ دینگے؟ کیا آپ پٹواریوں کو ووٹ دینگے؟ واہ واہ ۔۔۔ ۔کیا ترتیب اور کیا ترکیب ہے۔ ہمیں لیچنڈ سیادت دان اور بُلند پایہ مقرّر ذوالفقار علی بھٹّو کی بار بار ٹی وی پر دکھائی جانے والی ایک تقریر یاد آئی جس میں وہ کہتے ہیں، ‘میرے بھائیو، بہنو، بزرگو، مسلمانو! جیسے کہ بھائی ، بہن اور بزرگ، ہندو، بدھ اور عیسائی ہوں۔ ریحام کو بھی روانی میں قافیہ اور تعداد برابر کرنے کیلئےغاصب اور قاتل کے ساتھ پٹواری کو لگاانا پڑا۔ اس مثال سے موازنہ کرنا ہرگز مقصود نہ تھا۔

تقریر سے پہلے ریحام خان نے میڈیا سے گفتگو کی جس میں انہوں نے اپنی پرادری سے گلہ بھی کیا کہ انہیں منفی کوریج دی جاتی رہی ہے یہاں تک کہ انکی تعلیمی قابلیت پر سوال اُٹھے تو میڈیا نے اس پر بحث کی اور یہ کہ اگر وہ خود میڈیا میں ہوتیں تو اپنی ہم پیشہ کے ساتھ ایسا ہرگز نہ کرتیں۔ دوسرے لفظوں میں پیٹی بندی کا لاج رکھتیں۔ موصوفہ یہ بھول بیٹھیں کہ ‘پیٹی بھائیوں’ اور ‘پیشہ بہنوں’ کو بچانا ہی تو پاکستانی سیاست کی لعنت رہی ہے جس سے چُھٹکارا دلانے کا تحریک انصاف نے وعدہ کیا جسکی بناء پر اسے حکومت ملی۔ انہوں نے کہا کتنی زیادتی کی بات ہے میری ڈگری کو جعلی قراردیا گیا۔ اصل بات تھی ہی کچھ اور، ریحام خان نے اپنی ویب سائٹ پر اپنے تعلیمی ادارے کے طور پر جس کالج کا نام لکھا تھا انہوں نے تردید کی تو موصوفہ نے ویب سائیٹ سے ادارے کا نام ہٹادیا اور کسی دوسرے کالج کا نام لکھ دیا۔ اس معاملے کی کوئی تسلّی بخش وضاحت ابھی تک نہیں آئی۔ کیا پتہ اسکی نوبت نہ آنے کی امید پر ہی میڈیا کو پیٹی بندی کی غیرت دلائی جا رہی تھی۔ لگتا ہے ریحام خان سیاست سیکھ نہیں رہی بلکہ سیکھ چُکی ہیں اور اس سے پاکستانی سیاست کی اس تعریف پر مہر تصدیق ثبت ہوتی ہے جو عام آدمی عشروں پہلے کر چکا ہے اور جسکے مصداق سیاست اور جھوٹ ہم معنی ہیں۔ تقریر کے بعد میڈیا سے ہونے والی گُفتگو کے دوران ریحام خان سے پوچھا گیا کہ کچھ لوگوں نے انکا موازنہ بینظیر بھٹّو اور مادر ملّت فاطمہ جناح کے ساتھ کرنے لگے ہیں۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ مارد ملّت کے ساتھ موازنے پر تو وہ کچھ نہیں کہہ سکتیں البتہ بینظیر سے انکا موازنہ ہرگز درست نہیں کہ انہوں (ریحام خان ) نے کسی وڈیرہ خاندان میں آنکھ نہیں کھولی بلکہ زندگی میں بے انتہا محنت کی ہے اور یہ کہ اُنکی زندگی جس طرح سے گُزری ہے وہ اس سے قطعا” مختلف ہے جسطرح بے نظیر نے زندگی گُزاری ہے۔ اب اس پر کوئی کیا تبصرہ کرے۔ کاش ریحام خان اس سوال کو ایک کمپلیمنٹ قرار دیتیں یا خاموش ہی رہتیں تو شاید اُنکی تقریر کی ‘ریٹنگ’ میں ایک آدھ درجے کا اضافہ ہوتا

Posted in Uncategorized | Tagged , , , , , , , , , , , , | تبصرہ چھوڑیں

فی کس خوشی اور فی کس پھٹکار

23 اپریل کو نیو یارک میں عالمی خوشی رپورٹ شائع کی گئی۔ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام چھپنے والی یہ اس نوعیّت کی چوتھی سالانہ رپورٹ ہے جسکے مطابق سویٹزرلینڈ دُنیا کا خوش ترین ملک ہے۔ بالفاظ دیگر سویس قوم دُنیا بھر میں سب سے زیادہ خوش ہے۔ آئیس لینڈ، ڈنمارک، ناروے اور کینیڈا کی رینکنگ سویٹزرلینڈ کے فورا بعد آتی ہے۔ امریکہ صاحب بہادر کا نمبر پندرھواں اور برطانیہ کا اکیسواں ہے۔ بیلجیئم اور متحدّہ عرب امارات بھی برطانیہ کے قریب ہی ہیں جبکہ جرمنی اور فرانس بالترتیب چھبیسویں اور انتسویں نمبر پر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان، شام، گنی، بورنڈی اور چاڈ وغیرہ 158 ممالک میں سب سے ناخوش یا کم ترین خوش دس ممالک میں شامل ہیں۔ 166 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کچھ دلچسپ انکشافات بھی ہیں مثلا میکسیکو خوشی کی اس سیڑھی پر امریکہ سے بُلند مقام پر کھڑا ہے۔ اسی طرح عراق جنگی کشمکش اور پُر تشدّ د لڑائی جھگڑوں کے باوجود 112 ویں پوزیشن کے ساتھ خوشی کی اس درجہ بندی میں جنوبی افریقہ ہندوستان، بلغاریہ اور کینیا سے آگے ہے۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بھی چوٹی کے دس خوش ممالک میں شامل ہیں جبکہ ٹاپ کی سات پوزیشنوں پر مغربی یورپ کے چھوٹے ممالک پراجمان ہیں۔ پہلی 13 پوزیشنوں پر وہی ممالک فائز ہیں جنہوں نے پچھلے سال یہ اعزاز حاصل کیا تھا مگر اس سال ترتیب مختلف ہے۔
خوشی کیا ہے؟ یہ خاصا مشکل سوال ہے۔ خوشی کامیابی سے بھی بڑھ کر کوئی چیز ہے کیونکہ تمام کامیاب لوگ خوش نہیں ہوتے۔ خوشی ایک مخصوص ذہنی کیفیّت کا نام ہے۔ یہ کیفّت عموما اس وقت وجود میں آتی ہے جب حاصل ہونے والی کامیابی سے لطف بھی اٹھایا جائے۔ ایسا تب ہی ممکن ہے جب بہت ساری چیزیں ایک مخصوص توازن کی حالت میں ہوں۔ ہمارے ارد گرد کتنے لوگ ہیں جو کامیاب ہیں مگر وہ خوش نہیں ہیں۔ اُنکے پاس دولت ہے مگر وہ اپنی امارت کو انجوئے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ دولت ہے مگر وقت اور جوبن نہیں ہیں، صحت ساتھ نہیں دے رہی۔ کتنے ایسے لوگ ہیں جو کیرئیر میں آگے بڑھنے کی خاطر دن رات کام کرتے ہیں اور اس دوران بہت کچھ بشمول خاندان کودانستہ یا نادانستہ نظر انداز کرتے ہیں نتیجہ تہی دامنی کی صورت میں نکلتا ہے چنانچہ یہ ضروری نہیں کہ امارت، عہدہ اور جاہ و حشمت والا مقام و رُتبہ خوشی بھی دلائے۔ اسکا مطلب یہ بھی نہیں کہ کوئی شخص کسی ٹھوس کامیابی یا مقصد کے بغیر ہی یہ دعوٰی کرتا نظر آئے کہ وہ خوش ہے۔ یہ مصنوعی ذہنی کیفیّیت ایسے ہی ہوگی جیسے نشے کی حالت جس میں ایک فرد بڑے سے بڑا کارنامہ کردکھانے کا دعوٰی کرے۔ حقیقی خوشی کی تلاش اور حصول پر بے تحاشا لٹریچر موجود ہے اور ہر لمحہ کچھ نہ کچھ اس اہم موضوع پر لکھا جاتا ہے۔ انفرادی طور پر بات کی جائے تو کچھ لوگ عادتا اور فطرتا نا خوش رہتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔ ںاخوشی کے عمومی اسبا ب میں مقابلہ بازی، بوریّت، جسمانی یا ذہنی تھکاوٹ اور خستگی، رشک، احساس گُناہ، اپنے خلاف سازش کا وہم اور دوسروں کی منفی رائے کا خوف وغیرہ شامل ہیں۔ ان عوامل کے برعکس خوش رہنے کے اسباب میں جوش جذبہ، الفت، خاندان سے قربت اور لگاؤ، کام کاج، مشاغل اور دلچسپیوں کے ساتھ کوشش اور وارفتگی بھی شامل ہیں۔ افراد اپنے دائرہ اختیاراور دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے اپنے خوش رہنے کی کیفّت پر کافی حد تک اثر انداز ہو سکتے ہیں تا ہم بطور قوم خوشی اور نا خوشی کی بات کی جائے تو اس میں زیادہ کردار حکومت اور انداز حکمرانی کا ہوتا ہے کہ ایسا ماحول بنایا جائے جس میں خوشی کے اسباب یقینی اور ناخوش رہنے کی وجوہات معدوم ہوں۔
خوشی کی اس سیڑھی پر پاکستان کا نمبر اکیاسی جبکہ ہندوستان کا ایک سو سترھواں ہے۔ پاکستانیوں کی خوشی کی رینکنگ محض اس خبر سے بھی کئی پوائنٹس بڑھ جائیگا کہ انڈیا کئی درجے نیچے ہے۔ اسکی وجوہات دلچسپی سے خالی نہیں ہونگی۔ کئیوں کا خیال ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کی رینکنگ میں فرق دونوں ممالک کے عوام کی عمومی بود و باش میں فرق اوروہاں شدید غربت کے عام ہونے کے تاثر پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے۔ ایک انڈین نے رپورٹ پر یہ تبصرہ بھی کیا ہے کہ اگر پاکستان سے پنجاب اور انڈیا سے بہار والوں سے پوچھا جائے تو نتائج ایسے ہی ہونگے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ذرا انڈیا میں مہاراشٹر، گوا، یو پی اور پاکستان سے خیبر پختونخوا، بلوچستان اور قبائلی علاقوں کا بھی موازنہ کرکے دیکھ لیجئے گا۔ ہم نے رپورٹ کا ضابطہ تحقیق تو نہیں پڑھا تا ہم یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اقوام متحدّہ کے ایک ذمّہ دار ادارے یو این ڈی پی سے ایسے جگاڑ مارکہ ریسرچ کی توقع تو نہیں کی جاسکتی جسکے نزدیک صرف پنجاب ہی پاکستان ہے۔ یہ مغالطہ اپنی جگہ ایک لطیفے سے کم نہیں جسکے تحت مال روڈ، گلبرگ اور ڈیفنس وغیرہ پھر کر قیاس کیا جاتا ہے کہ سارا پنجاب اسی طرح ترقی یافتہ ہے جبکہ حقیت یہ ہے کہ لاہور کے اندر اور جنوبی ایشیا کے اس خوبصورت شہر کے پچاس کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر آپ کو غربت اور پسماندگی کے بد ترین مناظر ملینگے۔ رپورٹ کا یہ انکشاف بھی دلچسپ ہے کہ چین کا درجہ مجموعی خوشی کے پیمانے پر چوراسی یعنی پاکستان کے قریب لیکن نیچے ہے۔ اسی طرح ایران کا نمبر ایک سو گیارہ ہے جو عراق سے ایک درجہ کم اور ہندوستان کے قریب ہے۔

فی کس خوشی یا مجموعی قومی خوشی کی یہ رپورٹ یقینا اعلیٰ مہارت کے پیشہ ور افراد کے زیر نگرانی تیار ہوئی ہے تاہم پاکستان کے حوالے سے بادی النظر میں کچھ مشکوک ہی لگتی ہے اور وہ یوں کہ یقین کرنا مشکل لگتا ہے یہ پڑھ کر کہ پاکستان کے لوگ فرانس اور جرمنی سے ایک چوتھائی خوش ہیں اسکے باوجود کہ یہاں بجلی اور سماجی خدمات مفقود اور عدم تحفظ، گندگی، ملاوٹ شدہ خوراک اور جعلی ادویّات سمیت بے شُمار دو نمبریاں وافر ہیں۔ اسکے باوجود حُسن ظن پر تکیہ کرتے ہوئے ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خوشی ایک ذہنی کیفیّت کا نام ہے جو ضروری نہیں کہ وسائل کی فراوانی اور آسائشوں کے افراط سے وابستہ ہو۔ اس دلیل کے ساتھ ہی یہ خدشہ بھی سر اُٹھاتا ہے کہ کہیں پاکستانیوں کی یہ خوشی بھنگ اور افیون والی خوشی تو نہیں کہ باہر چاہے طوفان آئے یا اولے پڑ یں، من کا راوی چین لکھے اور ذہن میں پریاں ناچ رہی ہوں۔ قنوطیؔت کی جانب مائل کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ پاکستان کیلئے ایک سروے ایسا بھی ہونا چاہئے جسکے تحت فی کس فرسٹریشن اور فی کس توہین کا بھی حساب کتاب ہو۔

Posted in Uncategorized | Tagged , , , , , , , , , | تبصرہ چھوڑیں

یمن کا گرم آلو اور حُکمرانوں کی پُھرتیاں

لو جی! بہت پوچھتے تھے یہ خواتین و حضرات کہ ڈیڑھ ارب ڈالر کے عوض سعودی عرب کو ملے گا کیا ۔۔۔ اور یہ کہ پاکستان پر یہ احسان عظیم کیوں کیا گیا ہے۔ زیادہ دیر نہیں لگی پتہ چلنے میں! ایک تو معلوم نہیں پاکستان اور اسکے باسیوں کو ضیاٗالحق کے بھوت سے کب نجات ملے گی۔ موصوف کے بد نام زمانہ ریفرنڈم میں سوال تھا ’کیا آپ پاکتان میں اسلامی نظام چاہتے ہیں؟’ اگر آپ کا جواب ہاں میں آیا تو اسکا مطلب ہوگا کہ جنرل محمد ضیاالحق آئندہ پانچ سال کیلئے پاکستان کے صدر ہونگے‘۔ پانچ سال کہتے ہوئے انہوں نے پھیلی ہوئی انگلیوں والا ہاتھ اٹھا کر دکھایا تھا۔ لطیفہ مشہور ہوا تھا کہ جنرل صاحب جب ٹی وی سٹیشن سے گھر لوٹے تو بیگم صاحبہ لڑ پڑیں کہ دوسرے ہاتھ کو کیا ہوگیا تھا جو اسے نہیں اٹھایا۔ پاکستان کے روشن نام والے تاریک کردار کا ذکر کچھ یوں آٹپکا کہ موجودہ حکومت کے قائدین نے بھی یمن سعودی کچھڑی میں عجب منطق والا موقف اختیار کیا۔ کہتے ہیں سعودی عرب کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو اپنا کردار ادار کریں گے۔ سعودی عرب کی سلامتی کو خطرے کی کوئی وضاحت نہیں ہے کہ اسکا مطلب کیا ہے۔ سعودی عرب کی موجودہ شاہی خاندان کو خطرے کی بات کی جاتی تو تب بھی بات کچھ واضح ہو جاتی مگر یہاں تو اُلٹا سعودی شاہی حکمرانوں کو درپیشن خطرات کو مقامات مقدسہ کو خطرہ قرار دینے کی کنفیوزن بھی پھیلائی گئی۔
تھڑ ے پر بیٹھے اور ریڑھی رکشہ چلانے والے عام آدمی سے لیکر سکول کالج کے استاد اور ٹی وی چینلز پر بیٹھے اینکر اور مبصر سب اس بات پر متفق ہیں کہ تین دہائیوں پر محیط افغان جنگ کے چُنگل سے تو ابھی نکلے نہیں اور ایک نئی جنگ میں فریق بننے چل پڑے ہیں۔ ایسا تو عیاشیوں میں گُم واجد علی شاہ یا شراب کے نشے میں دُھت کوئی حکمران بھی کرنے سے پہلے سو بار سوچتا مگر حیرت ہے لسی اور پیپسی پینے والے موجودہ حکمران بلا سوچے سمجھے پرائی آگ میں کودنے پر تیار ہوگئے۔ وجہ واضح ہے کہ معیشت کو مستحکم کرنے اور یوں حکومت کی ڈگمگاتی کشتی کو سہارا دینے کیلئے ڈیڑھ ارب ڈالر اور سالہا سال تک جلاوطنی کے دوران خدمت کا تقاضا یہی سجھا گیا کہ بلا تردد ’حاضر جناب‘ کہا جائے۔ کسی نے ٹھیک سُرخی جمائی کہ ذاتی اور خاندانی احسانات کا بدلہ اب ساری قوم چُکائے گی کیا؟ ماضی قریب میں ایک مطلق االعنان حکمران نے مبینہ طور پر عالم مدہوشی میں غصے اور طاقت کے نشے میں مست بھپرے ہوئے عالمی سُپر پاور کی ایک فون کال کے جواب میں اسکی یک طرفہ فوجی حمایت اور مدد کی حامی بھر لی تو یار لوگ کہتے رہے کہ ملک میں منتخب پارلیمان ہوتی تو کہا جاتا کہ اس سے پوچھ کر جواب دینگے۔ اس وقت نہ پارلیمان تھی نہ کسی نے پوچھا، اب پارلیمان ہے تو بھی پوچھنے کی ضرورت اس وقت محسوس کی گئی جب میڈیا نے طوفان برپا کردیا۔ جس طرح اس وقت مطلق العنان حکمران امریک وزیر خارجہ کولن پاول کی فون کال پر ڈھیر ہوگئے تھے اسی طرح آج کے منتخب حکمران نے سعودی حکمران کی ٹیلیفون کال پر نہ صرف حامی بھرلی بلکہ ’طلب کرنے‘ پر اعلیٰ سطحی وفد کو وہاں حاضری دینے روانہ بھی کردیا۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان ماضی سے سبق نہ سیکھتے ہوئے ایک بار پھر اپنے کام سے کام رکھنے کے سادہ اور آفاقی اصول پر عمل پیرا ہونے کی بجائے پرائی جنگیں لڑنے لگا ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ اس موضوع پر ایک قومی بحث شروع ہو چکی ہے اور کئی اہم سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ ان سوالات میں اولین تو وہی ہے جسکا ذکر پہلے ہوچکا ہے کہ پاکستان جو افغان روس امریکہ جنگ کا با ارادہ فریق بنا اور یوں زخموں سے چور ہوا کہ ابھی سنبھلنے میں بہت دیر لگے گی۔ دیگر سوال بھی انتہائی اہم ہیں مثلاؑ : یہ جنگ بہر حال ایک فرقہ ورانہ پہلو بھی رکھتا ہے جس سے صرف نظر کرنا پاکستان کیلئے انتہائی مضرت رساں ہوگا۔ پاکستان کیلئے ایران اور سعودی عرب دونوں قریبی برادر ممالک ہیں۔ پاکسان میں بھڑکنے والی فرقہ ورانہ آگ میں حصہ ڈالنے کے منفی پہلو کے حوالے سے بھی دونوں کی ’خدمات’ ایک جیسی اور ایک جتنی کہلائی جاسکتی ہیں۔ ہندوستان سے دوستی کے حوالے سے بھی دونوں کا سکور برابر ہی کہلائے گا با الخصوص ان اطلاعات کے بعد کہ اعلیٰ سطحی سعودی حکمران وفد نے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان سے فوجی مدد لینے سے سعودی عرب اور ہندوستان کے تعلقات کا گاڑھا پن متاثر نہیں ہوگا۔ اتنا ہی گاڑھا تعلق ہے تو ہندوستانی فوج کے یمن جانے میں کیا رکاوٹ ہے؟ ایک دلچسپ سوال یہ بھی اُٹھایا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کا دفاعی بجٹ پاکستان کے دفاعی بجٹ سے کئی گُنْا زیادہ ہے اور اوْل الذکر دُنیا بھر میں اسلحے کا چوتھا بڑا خریدار ہے۔ ان حقائق کے پیش نظر بھی پاکستانی فوج کے دستے یمن بھیجنا خود سعودی عرب کے دفاعی استعداد پر کافی سوال اٹھائے گا۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ سعودی عرب کے اپنے لوگ اپنے وطن کی خاطر لڑنے سے اتنے گریزاں کیوں ہیں؟ یہ تو کسی باقاعدہ فوج کے خلاف لڑائی ہے بھی نہیں۔ ایک بار پھر ضیاالحق کے بھوت اور اسکے ہلاکت خیز ورثے کی طرف آتے ہیں، یمن کھچڑی میں کودنے کو بے تاب نابغے کہنے لگے پاکستانی عوام کے مقامات مقدسہ کیلئے احساسات کا تقاضا ہے کہ سعودی سلامتی کی ہر صورت تحفظ کیا جائے۔ ایک بار پھر گذارش ہے کہ کسی حکومت کی سلامتی اور مقامات مقدسہ کی سلامتی کو گڈ مڈ نہ کیا جائے۔ مقامات مقدسہ کا وجود اور انکے لئے مسلمانان عالم اور مسلمانان پاکستان کی عقیدت اور محبت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا، یہ محبت اور عقیدت صدیوں سے ہے جبکہ سعودی عرب کے جغرافیائی وجود اور شاہی خاندان کی عمر سو سال سے بھی کم ہے۔ ایک اوٹ پٹانگ سوال بھی ہو جائے اور وہ یہ کہ او آئی سی (OIC) نامی ایک تنظیم جو صرف انتہائی نامساعد صورت حال میں آنکھ کھول کر جمائی لیتی ہے اور کچھ حرکت کرتی ہے یا پھر کوئی اسے جھنجھوڑتا ہے کہ وہ ایسا کرے، اس بار لگتا ہے کہ وہ خود بھی لسی اور پیپسی کے زیر اثر ہے اور کوئی اسے جھنجھوڑنے کی زحمت کرنے پر بھی آمادہ نہیں، بھلا یہ کیوں؟ ایک بے تُکا سا سوال بھی ہو جائے اور وہ یہ کہ مفت کا تیل، دوران جلاوطنی مفت کی روٹیاں اور مفت کے ڈالر نکال کر خالصتا پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے بھی کوئی سعودی کارنامہ ریکارڈ پر موجود ہے کیا؟ بھلا ہو میڈیا ایکٹیویزم کا کہ اس اہم معاملے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اور آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی زحمت تو کی گئی۔

Posted in Uncategorized | Tagged , | تبصرہ چھوڑیں

آزادی سرکس

پاکستان کے دل لاہور میں آزادی پارک کے ساتھ ہی آزادی چوک بھی واقع ہے اور اب تو مبارک ہو، ماشاءللہ آزادی فلائی اوور بھی موجود ہے۔ پاکستان کے دماغ اسلام آباد میں کوئی آزادی چوک یا آزادی پارک نہیں ہے۔۔۔۔کیوں نہیں ہے؟ کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ آزادی کے وقت اسلام آباد ابھی پیدا ہی نہیں ہوا تھا، معلوم نہیں اس وقت اسکا بتّہ پانی کہاں تھا۔۔۔یہ بھی معلوم نہیں کہ اسلام آباد میں آزادی کے فقدان اور غلامی کی بہتات وجہ ہے یا نتییجہ۔۔۔اسلام آباد کے البتّہ ایک چوک پارلیمنٹ چوک المعروف ڈی چوک نے شہرت بڑی پائی۔ چلو چلو۔۔۔ڈی پارک چلو۔۔۔اس چوک کو التحریر چوک کا نام بھی دیا جاتا ہے۔۔۔ پتہ نہیں ڈی چوک اسکا نام کس کھاتے میں پڑ گیا یا اب اس کا بہتر مفہوم ڈی کی مناسبت سے کیا بنتا ہے۔ ڈی انگریزی کا چوتھا حرف تہجّی ہے۔ یہ دیگر ذبانوں جیسے اردو، پنجابی، سندھی، عربی وغیرہ میں یہ پانچویں سے لیکر مختلف درجوں پر فائز ‘د’ (دال) کا رفیق ہے۔ جی ہاں دال اردو میں حرف تہجّی کے ساتھ ساتھ یک گرین یا غلّے کا بھی نام ہےجسے گندم کی ٹوکری یعنی پنجاب میں روٹی کے ساتھ برغبت کھایا جاتا ہے تبھی تو فاتح ہند ظہیر الدّین بابر نے تُزک بابری میں لکھا کہ ‘عجیب ملک فتح کیا ہے جسکے لوگ غلّے کے ساتھ غلّہ کھاتے ہیں’۔ عجیب ملک تو اب بھی ہے جہاں دن رات جمہوریّت کا ڈھول پیٹنے والے ڈی سے ڈیموکریسی کا قتل کرنے دھمّال ڈالنے کیلئے ڈی چوک میں جمع ہونے کی کال دے چُکے ہیں۔ کہتے ہیں حکومت کو ختم کرکے دم لیں گے۔ کیا عجیب اتفاق ہے کہ ڈیموکریسی، دھمّال، دھڑن تختہ، دھرنا اور ڈرامہ جیسے تمام الفاظ ڈی یا دال سے ہی شروع ہوتے ہیں۔ دال میں کچھ کالا تو ہے ہی، نہ ہوتا تو ملکی سیاسی افق پر اتنی گھنگور گھٹائیں منڈ نہ لاتیں اور سیاسی پنڈت اتنے فون نہ کھڑکاتے۔ ایک لحاظ سے اچھا بھی ہے کہ کل کو کوئی یہ تو نہیں کہے گا کہ کارواں کے دل سے احساس ذیاں جاتا رہا۔۔۔۔یہاں تو کارواں کو بقول شخصے ‘کال’ پڑی ہوئی ہے۔
انصاف مارچ اور آزادی ڈھونگ سے سوالات کے بہت سارے سنپولئیے سر اٹھا رہے ہیں۔۔۔کنفیوژن کے بے شُمار ناگ پن پھیلائے ڈ ول رہے ہیں۔۔۔صفائی اور صراحت ہے تو فقط گلی کوچے کی زبان میں سیاست کے معنوں کی۔۔۔۔ڈکشنری میں اس لفظ کے معنی جو بھی ہوں، زبان خلق سیاست کو ڈھونگ، دھوکے، دو رنگی، دغا بازی اور اس جیسے بے شُمار خواص خباثت کے ہم معنی سجمتی ہے اور کیا درست سمجھتی ہے۔
مارچ کی کال دینے والے سُرخیل گلا پھاڑ پھاڑ کر کہہ رہے ہیں ہم اسلام آباد آزادی کا جشن منانے جا رہے ہیں، پُر امن رہیں گے، اُسی سانس میں کہتے ہیں، اینٹ سے اینٹ بجا کر آئیں گے حکومت کی۔ بھڑکیں مارنے کے ماہر وزیر داخلہ ترلوں پر آگئے ہیں، کہتے ہیں کوئی بھی صُلح کرانا چاہے تو ہم خوش آمدید کہیں گے۔۔۔۔دوسرے لفظوں میں، بچاؤ بچاؤ کی دُہائی۔۔۔۔ایک ٹاک شو کا عنوان دیکھا، “تخت ہو گا یا تختہ۔۔۔” ظاہر ہے دونوں ہونگے۔۔۔۔تخت مگر سیاست دانوں کو کوئی نہیں ملنے والا۔۔۔۔اُنکا دھڑن تختہ ہی ہوگا۔ کسی بات کا پتہ نہیں تو وہ یہ کہ تخت پر لوٹے والا مرد حق بیٹھے یا بوتل والا کمانڈو، سیاست دان کا مقام بی ٹیم اور دو نمبر ہی ہوگا۔۔۔۔ وہ بھی سیکنڈ ہینڈ جب چند سال اقتدار کی لونڈی سے دل بھر نے کو ہو آمر کا۔۔۔۔پتہ نہیں یہ سبق کیوں نہیں سیکھتے سیاستدان۔۔۔پیپلز پارٹی اور نون لیگ تو لگتا ہے ازبر کرچکے پر کپتان ابھی نیا ہے اس کھیل میں۔۔۔۔کپتان کے چیلے چانٹے سمجھتے ہیں کہ مارشل لاء نہیں لگے گا۔ وجوہات وہ یہ بتاتے ہیں کہ اولا، تحریک انصآف مارشل لاء کی حمایت نہیں کرے گی۔ ثانیا، موجودہ سپہ سالار پروفیشنل سولچر ہیں اور ثالثا، عدلیہ مارشل لاء کی توثیق نہیں کریگی۔ جہاں تک پہلی دلیل کا تعلق ہے تو کوئی ان چیلوں کو پدّی اور کھوتی کا قصّہ سُنا کر سمجھائے کہ ‘ایکشن’ کے وقت پدّی سے پوچھتا کون ہے۔ دیگر دلائل بھی پھیکے پُھسپُھسے مفروضے ہیں۔ پہلے تو بجتا رہا ہے بینڈ باجا اس بار ٹھیک ٹھاک ڈھول بجے گا۔
ماضی میں لانگ مارچ کی مٹی آج کی مائل بہ گُریز نام نہاد مین سٹریم سیاسی جماعتیں خوب پلید کرچکی ہیں۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی اقتدار کی باریاں لینے کے ساتھ ساتھ نوّے کی دہائی میں لانگ مارچ بھی باری باری کرچکی ہیں۔ اس وقت انتظامی مشینری میں اتنی جان ہوا کرتی تھی کہ لانگ مارچ کو روک لیتی تھی۔ ایسے میں کھلاڑی کپتان کو لانگ مارچ نہ کرنے کی نصیحت صدا بصحرا ثابت ہو رہی ہو تو اس میں حیرت کیا۔۔۔۔ہم پچھلی صدی کے دو مارچ ہی جانتے ہیں، ایک وہ جس کا فاشزم کے بانی مسولینی نے اعلان کیا، حکومت اتنی ڈرگئی کہ اقتدار چھوڑ کر بھاگ نکلی باوجود اسکے کہ مسولینی خود روم کی جانب مارچ میں شریک نہ ہوئے اور میلان میں ہی بیٹھے بیٹھے اقتدار کی لونڈی ان کے گود میں آگری۔ ایک لانگ مارچ وہ جس کی قیادت ماؤزے تنگ نے کچھ یوں کی کہ اپنی قوم کو دُنیا کی طاقتور ترین اقوام کا ہم پلّہ بنا نے کی بُںیاد ڈالی۔

آزادی سرکس کا شو تو جب شروع ہوگا تو دیکھیں گے۔۔۔سُنا ہے اس میں بہت سارے آئیٹم ہونگے جیسے صندوق میں لڑکی بند کرکے صندوق میں سے آر پار چاروں طرف سے تلواریں اور چُھرے گذارنے کے بعد لڑکی کا زندہ سلامت نکل آنا۔۔۔۔پہلوان کو الٹا لٹا کر اس کے اوپر سے ٹریکٹر گُزارنا، ہاتھ میں چھتری لےکر تنی ہوئی رسّی پر سے گُذرنا وغیرہ۔۔۔یہ سب تو ہوگا اگر شو ہوتا ہے۔۔۔۔تب تک اس تمام شغل سے محظوظ ہوں جو سرکس کے شو سے پہلے لوگوں کو متوجہ رکھنے کیلیے کیا جاتا ہے۔۔۔۔پُرانے گانوں کی لے پر ہیجڑوں کا رقص، تخت اور تختوں پر مُنڈوں اور کُڑیوں کے دلفریب جمناسٹک، شیر کی جعلی دھاڑ چھنگاڑ۔۔۔ اور سرکس عملے کے خیموں کے اٹھتے گرتے پردے۔۔۔
ہمیں نہیں معلوم قارئین میں سے کس کو سرکس میں کیا پسند ہے۔ ہمیں تو موت کا کنواں پسند ہے۔ ہمیں اس سے بھی کوئی غرض نہیں کہ موٹر سائیکل چلانے والا ‘پائلٹ’ اپنے ساتھ فرنٹ سیٹ پر ہییجڑے کو بٹھاتا ہے یا اصلی خوبرو خاتون کو۔۔۔ہمیں وہ لمحہ پسند ہے جب موٹر سائیکل لکڑی کے کنویں کے “منہ” پر پہنچتا ہے اور ‘پائلٹ’ ہینڈ ل چھوڑ چھاڑ کر تماشائیوں کو سلیوٹ کرتا ہے۔ کیا لمحہ ہوتا ہے اس خوف کے بوجود کہ بے لگام موٹر سائیکل بے کنار کنویں سے نکل کر چڑھ نہ دوڑے۔ لائیو میوزک کنسرٹ کی طرح آزادی سرکس کا کوئی آن لائن فرمائیشی سلسلہ ہوتا تو ہم یہ ضرور درخواست کرتے کہ کسی ایزیکٹو کنٹینر پر ایک عدد موت کا کنوں فٹ کرکے ڈی چوک میں لایا جائے تاکہ مزہ دوبالا ہو۔ اس بات پر البتہ جھگڑا نہ ہونے دیا جائے کہ موٹر سائیکل کون چلائےگا اور پائلٹ کے ساتھ کاک پٹ، معاف کیجئے گا، فرنٹ سیٹ پر کس نے بیٹھنا نے۔ یہ بھی ایک آئٹم ہی تو ہے کہ ایک فریق نے ایک لاکھ موٹر سائیکل جمع کرنے کی کال دی ہے تو دوسری جانب حکومت بذریعہ پولیس چُن چُن کار موٹر سائیکلوں کو پکڑ کر بند کر رہی ہے۔ ملکی آبادی کا ایک بڑا حصّہ بطور خاص نوجوان طبقہ، موٹر سائیکل چلاکر زندگی اور روزگار کی گاڑی رواں دواں رکھتے ہیں۔ بد قسمتی سے بھتّہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سے لیکر دُنیا جہاں کی ہر خرابی کو ٹھیک کرنے کا نُسخہ موٹر سائیکلوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں ڈھونڈا جاتا ہے۔ گُڈ گورننس کے جذیرے، خیبر پختونخوا سے جب صحت انصاف مہم کی خبر بر آمد ہوتی ہے تو یہ فقرہ لازمی شامل ہوتا ہے کہ ‘موٹر سائیکل چلانے پر پابندی ہوگی’۔
پری سرکس تفریح سے لطف آٹھائیں، سرکس شو ہوتا ہے یا نہیں، ہم یہ ضرور دیکھیں گے کہ جھنڈے کی رسّی کون تھامتا ہے اور اسے سلیوٹ کون کرتا ہے۔ سلیوٹ سے یاد آیا کہ رائل سلیوٹ والی سرکار کا کیا بننے جا رہا ہے آزادی سرکس کے بعد؟

Posted in Uncategorized | Tagged , , , , , , , , , , | تبصرہ چھوڑیں

آدھی رات کا جھنڈا

عنوان کی مناسبت سے آدھی رات اور جھنڈے دونوں پر بات ہوگی بلکہ یوم آزادی، فوجی پریڈ اور لانگ مارچ پر بھی تبصرہ کریں گے کہ ان سب کا جھنڈے اور آدھی رات سے تعلق بنتا ہی ہے۔ اور کچھ نہیں تو برّصغیر کی تقسیم پر لکھی گئی بین الاقوامی طور پر مسلّمہ ریسرچ کتاب فریڈم ایٹ مڈ نائٹ یعنی آدھی رات کی آزادی سے ہی اندازہ لگا لیجئے۔ لال حویلی کے شیخ رشید فرماتے ہیں آدھی رات کو کونسی پریڈ ہوتی ہے اور کونسا جھنڈا لہراتا ہے۔ انہوں نے تو قومی جھنڈا لہرانے اور لپیٹنے کے آداب سے متعلق 2002 کے کسی ضابطے کا بھی حوالہ دیا ہے جو آج کل مروّج اور لاگو ہے۔ شیخ صاحب کے مطابق آدھی رات کو جھنڈا لہرا کر اسے سلام کرنے پر قانونی کار روائی بھی ہوسکتی ہے۔ ایسا ہوا تو واقعی ایک اور قومی ریکارڈ بنے گا۔ فی الحال تو ہمارے حافظے کے راڈار پر کلاشنکوف لہرانے پر کارروائی موجود ہے۔ ایک واقعے میں جناب شیخ صاحب ملوّث تھے یا کردیے گئے تھے تو دوسرے میں ابن ڈکٹیٹر جناب اعجاز الحق نے جرم کا ارتکاب کیا تھا، دونوں واقعات میں جو سزا ہوئی تھی وہ ‘کھلے تضاد’ کی ننگی ترین تشریح تھی اور داغ دار تاریخ کا ایک حصّہ ہے۔ چنانچہ بہتر ہے شیخ صاحب قانون اور کارروائی والی موشگافی کو سگار کے دھوئیں میں اڑائیں۔۔۔ویسے بھی سلامی سلامی ہوتی ہے۔۔۔آدھی رات کو دی جائے یا کڑی دوپہر میں۔۔۔۔شیخ صاحب سے بہتر کون جانتا ہے کہ اصل سلامی ہوتی ہی آدھی رات والی ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ کہ جھنڈے کو ڈنڈا بنتے دیر نہیں لگتی۔
آدھی رات کے جھنڈے کا تو ہمیں علم نہیں البتہ آدھی رات کے فوجی پریڈ کی رسم شیخ رشید کے پیر و مرشد جنرل پرویز مشرف نے با لواسطہ یوں ڈالی کہ اگست 2008 میں مختصر ترین نوٹس پر آدھی رات کو ایوان صدر میں یوم آزادی کی تقریب پرپا کی۔ وقت کے سپہ سالار نے ڈوبتی ناؤ میں سواری کرنے سے گریز کی اور معذرت کرتے ہوئے اُسی وقت یعنی آدھی رات کو ہی کاکول میں یوم آزادی پریڈ میں شرکت کی عذر پیش کی۔ تب سے آج تک کاکول کا یہ پریڈ آدھی رات کو ہی منعقد ہوتا آیا ہے۔ مشرف کے ہاں تو آدھی رات سے پہلے ہی ‘اندھی رات’ پھیل جایا کرتی تھی۔ اچھی خاصے عقلمند اور بابے نہر والے پُل کے بلاوے پر بہک کر لہک لہک کر بکتے تھے (زیر زبر اپنی مرضی سے لگائیں)۔ ایسے اندھے لمحات ہی میں موصوف غیروں کا بھلا اور اپنوں کا کباڑا کرتے تھے۔ نائن الیون کے بعد کولن پاؤل کے فون کا جواب اور لال مسچد آپریشن کا حکم اسکی مثالیں ہیں۔
مشرف کے زیر سایہ بننے والی پیپلز پارٹی کی حکومت کو تو گویا آدھی رات کا جنون ہی ہوگیا تھا۔ وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کرنی ہے تو آدھی رات کو واسکٹ پہن کر سٹوڈیو روانہ۔۔۔انہیں کون سمجھاتا کہ اس وقت دیکھے گا کون۔۔۔جج بحال کرنے ہیں تو آدھی رات کو۔۔۔وہ تو شاید اسلئے کہ جی ٹی روڈ آدھی رات کو بند نہیں ہوتی اور موبائل فون بھی چلتے رہتے ہیں۔۔۔۔قوم کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی پر اعتماد میں لیتے ہوئے فوج کو سوات آپریشن کا ‘حکم’ دینا ہو تو بھی آدھی رات کو۔۔۔لا حول ولا قوّتہ۔۔۔اور تو اور۔۔۔سیاسی اداکاروں کو لاڑکانہ میں سٹیج سے دھمکی دینے کیلئے بھی عین آدھی رات کا انتخاب۔۔۔کوئی اس دور کی روداد لکھے تو کتاب کا مناسب ترین ٹائیٹل ‘آدھی رات کے مسافر’ ٹھہرے۔ ویسے حقیقت تو یہ ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں نظر دوڑائیں تو نام نہاد اشرافیہ زیادہ تر ‘مڈنائٹ جیکالز’ یعنی آدھی رات کے گیدڑ لومڑیوں پر مشتمل ہے۔ رات بھر مٹر گشت، قیمتی ریستورانوں کے گرد منڈ لانا اور دن بھر سونا۔۔۔کمّی کمین، منشی بابو اور کھوتے مزدور البتہ دن بھر کام کرکے رات کو سوتے ہیں۔ ترقی یافتہ معاشروں پر نظر ڈالیں تو وہاں رات آٹھ بجتے ہی خاموشی چھا جاتی ہے۔۔۔ رات سونے کیلئے ہے والا فارمولا۔۔۔اختتام ہفتہ کی رات البتہ خوب کھاتے پیتے اور موج مستی کرتے ہیں۔۔۔وہ مگر نجی اور ذاتی وقت ہوتا ہے۔۔۔۔بحث کا فائدہ کوئی نہیں۔۔۔یہاں تو دن رات اور ماہ و سال تو کیا، پورا ملک اور معاشرہ اشرافیہ کے باپ دادا کی جائیداد اور ذاتی ملکیّت ہے، چنانچہ انکی مرضی، سوئے یا جاگے، خرّاٹے لیں، ڈکاریں ماریں یا کچھ اور کریں، مجھے اور آپ کو کیا۔۔۔ایک دن آدھی رات کو جاگنے میں کوئی حرج نہیں، اگلا دن آزادی کا ہے دن بھر سوئیں، بھنگ پینے کی بھی ضرورت نہیں، چودہ اگست ہے نا۔۔۔

گذشہ کئی سالوں سے 23 مارچ کو منعقد ہونے والا یوم پاکستان پریڈ دہشت گردی کی دھندلکوں میں گُم ہوگیا تھی۔۔۔۔یہ پریڈ مارچ کی بجائے اگست میں جنم لے رہا ہے۔ مہینہ اور تاریخ بدلنے پر شاید کسی کو اعتراض نہ ہو مگر اس حوالے سے ‘ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ’ کے فلسفے پر ہر کسی کو اعتراض ہے۔ فوج کی اتنی بڑی تعداد پارلمینٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک میں اور یا پھر پیچھے سبزہ زار میں فوج کی اتنی بڑی تعداد جمع کرنے کا مقصد گمشدہ پریڈ کی بازیافت ہے یا پھر انصاف کے سونامیوں کو یہ پیغام دینا کہ ذرا بچ کے۔۔۔کاش تحریک انصاف انتخابات جیتنے کی دُعا کے ساتھ کچھ عقل بھی مانگتے رب سے۔ کاش یہ حماقت کے چوکے چھکّ مارنے کی بجائے غور و فکر کرتے، اپنی پوری توجہ اور توانائی ایک صوبے کو بہتر حکمرانی دینے پر صرف کرتے اور اگلے انتخابات میں پورے ملک میں اپنی جیت کو یقینی بناتے۔۔۔چھوڑیں جی، کیا دل جلانا ہے ایسی باتیں کرکے۔۔۔اس مقصد کیلئے ٹاک شوز ہی کافی ہیں۔ ایک بات لازم ہے کہ ہم دیکھیں گے کہ 13 اور 14 اگست کی درمیانی رات کو جھنڈا لہرانے کیلئے قانون میں ترمیم کی جاتی ہے یا پھر حسب روایت اعلیٰ ترین سطح سے ‘قانون ٹھاہ’ کا ایک اور مظاہرہ ہوتا ہے۔۔۔مچھلی بھی اوپر سے یعنی سر سے سڑنا شروع ہوتی ہے۔
تحریک انصاف چاہتی تو اللہ کا شکر ادا کرکے، سر جُھکا کر، وفاقی حکومت کے ساتھ بناکر، چُپکے سے اپنا کام کرتی۔۔۔نئے اور سائنسی طریقے سے اپنی حکومت چلاتی، پشاور شہر، جس نے اپنی ساری نشستیں کپتان کی جھولی میں ڈال دی تھیں، کے دیرینہ مسائل پر توجّہ دیتی، اور انہیں حل کرتی۔۔۔پانچ سال بعد عوام کے پاس جاتی تو کہیں زیادہ اکثریّت سے جیت کر سرخرو ہوتی۔ بدقسمتی سے تحریک انصاف وزیر اعلیٰ اور بیوروکریسی کے اہم عہدیداروں کے انتخاب سے لیکر اپنے اناڑی وزیروں کو آداب حکمرانی سکھانے کے ابتدائی مراحل میں ہی لڑکھڑائی۔ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی دفتروں کے چکر لگانے اور سرکاری افسران سے اپنے حلقوں کے جائز ناجائز کام کرانے کے گھسے پٹے طریقوں میں پچھلوں سے بازی لے گئے۔ سارے طور طریقے پُرانے ہی رہے۔ بنی گالہ کے ٹیلے پر بیٹھ کر چین کی بانسری بجانے سے معاملات تبدیل تھوڑی ہوتے ہیں۔ یہ تاثر عام ہوتا جارہا ہے کہ تحریک انصاف ‘ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا’ کمپلیکس کا شکار ہوتی جارہی ہے۔۔۔۔تبھی توپورا ایک سال گذرنے کے بعد تحریک کے سربراہ فُل ٹائم ‘احتجاج خان’ بنے ہوئے ہیں۔ پرویز خٹک کا یہ بیان بھی اس طرف اشارہ کرتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ انصاف کیلئے اگر خیبر پختونخوا سمیت تمام حکومتیں ختم بھی ہوتی ہیں تو ختم ہو جائیں، کوئی پرواہ نہیں۔ خٹک صاحب کو معلوم ہونا چاہئیے کہ شہادت اور خود کش جیکٹ کے شارٹ کٹ میں فرق ہوتا ہے۔ سیاسی شہادت اتنی آسان نہیں ہوتی اور اننگز ڈ یکلیر کرنے کے بھی آداب ہوتے ہیں جو کپتان سے بہتر کون جانتا ہے۔

Posted in Uncategorized | Tagged , , , , , , , , , , , | تبصرہ چھوڑیں

آپریشن ضرب عضب کے طاق جفت

جتنی یہ بات اطمینان بخش ہے کہ شمالی وزیرستان میں بارود کے ذخائر اور بم، گرنیڈ اور دیگر تباہ کُن اشیاء کے کارخانے اور گودام تلف کئے جارہے ہیں، اتنا ہی یہ امر پریشان کُن ہے کہ یہ سب کچھ وہاں جمع کیسے ہوگیا۔ تعداد کے لحاظ سے دُنیا کی چند بڑی افواج میں سے ایک اور تربیّت و پیشہ ورانہ رینکنگ میں بہترین افواج میں سے ایک، یہ کام پہلے کیوں نہ کرسکی۔ ضرور کرسکتی تھی اگر کوئی کرواتا تو۔۔۔۔ ‘شمالی وزیرستان کا محاذ نہیں کھول سکتے’ کے داعی سپہ سالار کے بارے میں تو اب انکی اپنی ٹیم کے ارکان کُھل کر یہ کہنے لگے ہیں کہ آپریشن میں تاخیر کرکے انہوں نے وقت ضائع کیا تھا اور یوں دہشت گردوں کو مزید مضبوط ہونے کا موقعہ فراہم کیا گیا تھا۔ دیکھا جائے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی چہرہ، ہاتھ اور بازو تو مل مل کر دھوئے مگر پاؤں کو ہاتھ تک نہ لگائے اور پانی کے دو چھینٹے تک نہ مارے۔۔۔وجہ جو بھی ہو، سردی یا کوئی اور۔۔۔۔ایسے میں وضو تو نہیں ہوئی نا۔۔۔۔دوسرے لفظوں میں کنویں سے کتنا ہی بانی کیوں نہ نکالا جائے جب تک مرا ہوا جانور نہ نکال جائے، کنوں صاف نہیں ہوسکتا۔ مشرف اور اُنکے بعد کیانی نظریہ کا غالب پہلو یہی ‘اچھے لوگ اور بُرے لوگ’ ہی رہا۔ جس طرح سانپ اور بچّھو اچھے بُرے نہیں ہوتے، ایسے ہی دہشت گرد بھی ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ ایک وقت تو ایسا بھی آیا تھا کہ چند ہزار مسلّح لوگ جنہیں طالبان کے لیبل سے جانا جاتا تھا، ضرورت پڑنے پر کہیں بھی چلے جاتے تھے اور مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ فوج کی بھی زندگی اجیرن کردیتے تھے۔ چیتھ کی دھوپ کی مانند کہ بیل کے ایک سینگ پر چھاؤوں اور دوسرے پر دھوب ، ایک علاقے میں آپریشن اور دوسرے میں مکمل بے عملی، کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا تھا۔ سوات میں مولوی فضل اللہ کے خلاف مجرمانہ تاخیر سے آپریشن اور اور باجوڑ میں مولوی فقیر کو مکمل فری ہینڈ۔۔۔سوات کے آپریشن میں تاخیر کی ذمّہ داری اس وقت کی ایم ایم اۓ حکومت پر ڈال دی گئی کہ مولویوں کی حکومت اپنے آخری مہینوں میں ایک باغی مولوی پر گولی چلانے کے موڈ میں نہیں تھی۔ باجوڑ میں تو وفاق کا حکم چلتا تھا، وہاں تادیبی اقدام کیوں نہیں کیا گیا۔ ان جیسے سوالات کا تسلّی بخش جواب نہ ملنے سے ہی یہ تاثر عام ہوا کہ انواع و اقسام کے چھوٹے بڑے اور بقول بی بی سی ‘نرم گرم’ آپریشن فلمی شوٹنگ کے زمرے میں ہی آتے ہیں اور محض امریکی ڈالر کھرے کرنے کیلئے توپوں کی گھن گرج ہوتی ہے۔ بعد از خرابئی بسیار 2009 میں کیا جانے والا سوات آپریشن ہی پہلا ‘اصلی تے وڈا’ آپریشن تھا اور اب شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کی بیخ کُنی اور سرکوبی ایسی کار روائیاں ہیں جنہیں بجا طور پر ایک خرابی کو جڑ سے اُکھاڑنے کی سنجیدہ اور کامیاب کوشش قرار دی جارہی ہے۔ “ساٹھ فیصد” ناکامی کے بھوت سے ڈرانے والے کو اگر اپنی مقرّرہ معیاد پوری کرنے پر چلتا کیا جاتا تو شاید نتائج مختلف ہوتے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت میں البتہ یہ جٗرات کہاں تھی۔۔۔اس نے تو پریمیئر جاسوس ادارے کے سربراہ کو بھی دو سال کی اضافی معیاد سے نوازا کہ وہ کرکٹ کے ہیرو کی سربراہی میں تیسری قوّت کی چھتری تلے نامی گرامی سیاسیوں کو ہانک ہانک کر جمع کرسکے۔
آپریشن ضرب عضب کی طرف واپس آتے ہیں۔۔۔تاخیر بلکہ مجرمانہ تاخیر کا سوال اٹھایا گیا تو ایک عرصے سے محو خواب لال حویلی کا شیر کسمسایا اور لوگوں کو خبردار کیا کہ ایسی باتیں نہیں کرتے۔ یہ ایک تبصرہ موصوف کا دہشت گردی کے آپریشن کے خلاف پہلا اور آخری تبصرہ تھا، موصوف اس سے پہلے بھی اور بعد میں بھی اس موضوع پر مہر بلب رہے۔ اُنکی دوڑ اور پُھرتیاں مذاکرات کے ڈرامے تک ہی رہیں۔ طالبان کے ‘روحانی باپ’ ہونے کے فخریہ دعویدار بھی معلوم نہیں کس غار میں سورہے ہیں، کوئی صدا، کوئی تبصرہ آہی نہیں رہا ہے اُنکی جانب سے۔۔۔مذاکرات کے سیزن میں سب سے زیادہ دُکان مذکور روحانی باپ کی ہی چلی۔۔۔ہمیشہ صوفے پر اپنے برخوردار کو ساتھ بٹھاتے کہ موصوف 2002 کے بلڈوزر مارکہ الیکشن میں ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور اسکے بعد گوشئہ گُمنامی میں ہی پڑے رہے تھے۔ وزیرستان کی طرف آنکھ اُٹھانے کی صورت میں پورے ملک میں آگ اور خون کے طوفان سے ڈرانے والے بھی پتہ نہیں کس طرف پدھارگئے ہیں۔
فکر اور افسوس کے مقامات البتّہ کئی ہیں وزیرستان آپریشن سے پرآمد ہونے والی صورت حال کے حوالے سے۔ سب سے پہلے وہی تاخیر والا سوال، کہ آپریشن کو گرمیوں تک ملتوی کرکے دہشت گردوں کو فرار ہونے کا بہتر موقعہ فراہم کیا گیا کہ سردیوں میں برف کی وجہ سے اکثر راستے بند ہوتے۔ کیا ضمانت ہے کہ جس طرح سوات آپریشن کے بعد فضل اللہ نے افغانستان میں خود کش حملہ آور کے تربییتی مراکز کھولے اور انکی نگرانی کی، اس بار بھی ویسا نہیں ہوگا۔ حکومت کو چاہئے کہ افغانستان اور نیٹو حکام کے ساتھ ایک ایسے انتظام پر متفق ہو جائے کہ دونوں اطراف سے موت اور دہشت بانٹنے والوں کے گرد گھیرا تنگ ہو۔
آئی ڈی پیز کا مسئلہ انتہائی گنجلک ہے۔ متاثرین آپریشن کے انتظام و انصرام میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشینری بہت کم نظر آرہی ہے۔ یہ واضح نہیں کہ یہ کام فوج نے اپنے ذمّے خود لیا ہے یا اسکے حوالے کردیا گیا ہے۔ دونوں صورتوں میں یہ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ فوج کی توانایئاں اصل ضرورت سے زیادہ پھیلانا اور کھینچنا کسی طرح مناسب نہیں۔ فوج کا جو کام ہے اسے اس تک ہی محدود رہنا چاہئے تھا۔ ایسا نہ کرنے سے ادارہ جاتی تعلقات اور پیشہ ورانہ صلاحیّتوں پر بُرے اثرات پڑنے کا قوی امکان ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ سول حکومت کے لمبے چوڑے ادارے کیا کر رہے ہیں۔ بے شک فوج آئی ڈی پیز کی سکریننگ وغیرہ اپنی نگرانی میں کراتی مگر بعد میں آئی ڈی پیز سول حکومت کے حوالے ہوتے۔ جو انکا خیال رکھتی۔ یہ بات درست ہے کہ سوات آپریشن اور 2005 کے زلزلے میں این جی اوز نے متاثرین کو اپنی دکانیں چمکانے کیلئے استعمال کیا اور بہت ساری خرابیاں سامنے آئیں، اسکے باوجود، بین الاقوامی اداروں اور معتبر ملکی مخیّر اداروں کو آئی ڈی پیز کی مدد اور بحالی سے متعلق سرگرمیوں میں بھر پور کردار دینا عین مناسب ہوتا۔
یہ خدشہ یقین کے عین قریب ہے کہ حکومت نے وزیرستان آپریشن کے اہم ترین معاشرتی اور انسانی پہلو، یعنی آئی ڈی پیز کے مسئلے پر شائد کوئی توجہ نہیں دی اور نہ ہی اسکے لئے منصوبہ بندی کی۔ تبھی تو امدادی رقوم کی مد میں ابھی تک بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض سب سے بلندی پر ہیں۔ کاش وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی ‘ووٹ خرید” قسم کا ایک آدھ منصوبہ ڈراپ کرکے تجوریوں کے منہ کھول دیتی تو دہشت گردی کے لگائے زخم کچھ یوں بھرتے کہ مسئلے کے دیر پا حل میں مدد ملتی۔
آپریشن ضرب عضب کی ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ یہ آئسولیشن میں نہیں ہو رہا۔ دہشت گرد جہاں کہیں اور بھی سر اُٹھاتے ہیں، انہیں مسل دیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ نہ صرف جاری رہے بلکہ اسکا دائرہ وسیع کردیا جائے تاکہ آپریشن زیادہ مو ثر ہو۔
آپریشن کے بعد کے منظر نامے کے حوالے سے اخبارات اور ٹاک شوز میں عجیب و غریب تجاویز آتی ہیں۔ فاٹا کا المیہ یہ رہا ہے کہ جو اسے سجھتے ہیں وہ تبدیلی لانا نہیں چاہتے کہ اس سے انکی کمائیوں اور کھابوں پر لات پڑتی ہے۔۔۔۔جو تبدیلی لانا چاہتے ہیں، وہ فاٹا کے بارے میں جانتے نہیں، وہ بٹن دبا کر فاٹا میں کایا پلٹ چاہتے ہیں۔۔۔یہ موضوع الگ سے ایک طویل بحث کا متقاضی ہے۔ سر دست ہم آپریشن کے بعد شمالی وزیرستان میں ترقیاتی کام کے حوالے سے ایک اچھوتی تجویز پیش کرنا چاہتے ہیں، آزمانے میں کیا حرج ہے۔ شمالی وزیرستان میں تعمیراتی کاموں کیلئے جنتا بھی فنڈ مخصوص ہے، اسے اٹھا کر ملک ریاض کے حوالے کیا جائے جسے وہ جیسے چاہے خرچ کرے، اسی طرح سوشل سیکٹر یعنی صحت اور تعلیم سے متعلق سارے انتظام و انصرام کیلئے جتنے وسائل مخصوص ہیں، انہیں دیہی ترقی کی کسی تنظیم کے حوالے کیا جائے۔ تمام سرکاری ملازمین کو مخصوص عرصے کیلئے ان اداروں کے ماتحت کیا جائے اور جو ایسا کرنے سے انکار کرے، انہیں تبدیل یا برخاست کیا جائے۔ قانونی پیچید گیوں سے نمٹنے کیلئے ضابطے میں ترمیم کیا جائے۔ پولیٹیکل ایجنٹ کو کچھ عرصے کیلئے نکال باہر کیا جاسکتا ہے یا پھر کسی ایسے افسر کو تعیینات کیا جائے جو نئے نظام کا رابطہ کار بن سکے۔ یہ نظام بہر حال فاٹا سیکریٹیریٹ اور سیفران جیسے ہاتھیوں اور جونکوں سے مکمل طور پر آزاد ہو۔ تجربہ کامیاب رہا تو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے نتیجے میں ایک معجزے کا ظہور ہو سکتا ہے۔ احتیاط لازم ہوگا کہ باہر سے آئے ہوئے لوگوں کا عمل دخل ترقی کا عمل انجام دینے اور مخصوص شرائط کے تحت اسکا حصّہ بننے تک رہے تا کہ منصوبے پر وہ لیبل نہ لگے جو مشرف کے دور میں گوادر پر لگا تھا جس میں مقامی لوگ امریکی ریڈ انٹین بنتے صاف نظر آرہے تھے۔

Posted in Uncategorized | Tagged , , , , , , , , , , , | تبصرہ چھوڑیں

پی آئی اے، ہمارے ایئر پورٹ اور عالمی ریکارڈ

یار لوگ ویسے ہی الزام لگارہے تھے کہ پاکستان کے نوجوانوں کو سر سے اخروٹ اور ناریل توڑنے جیسے بے تُکے عالمی ریکارڈ بنانے پر لگایا ہوا ہے۔ ہمارے پاس اصلی تے وڈے عالمی ریکارڈ کی تعداد بھی ماشاءاللہ بڑھتی جارہی ہے۔ یوں تو ہر شعبئہ زندگی ریکارڈز سے مالا مال ہے مگر سانحہ پشاور ایئر پورٹ کی مناسبت سے آج ہم ہوائی اڈّ وں اور فضائی پٹیوں کے حوالے سے عالمی ریکارڈز کی بات کریں گے۔ منگل کی رات پشاور کا باچا خان ائیر پورٹ دوسرا عالمی ریکارڈ قائم کرکے بازی لے گیا۔ اس سے پہلے یہی ہوائی اڈّہ جبکہ یہ ابھی باچا خان ائیر پورٹ نہیں بنا تھا، عالمی ریکارڈز کے آسمان پر یوں چمکا کہ اسے دُنیا کا واحد ائیرپورٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا جسکے رون وے پر جہاز اور ریل گاڑی کا تصادم ہوا۔ کہاں رن وے اور کہاں ریل گاڑی۔۔۔کیا پاکستان میں ریل گاڑیاں اتنی تیز رفتار تھیں کہ ہوا میں اڑنے کیلئے رن وے پر آتی تھیں۔ تب پاکستانی جہاز شاید مچھلیوں کی طرح سمندر میں تیرتے تھے۔ جی نہیں، ایسی کوئی بات نہیں تھی بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پچھلی صدی کے اوائل میں بننے والی انجیئرنگ عجوبہ ریلوے لائین جو 33 سرنگوں میں سے گُذر کر درّہ خیبر میں پہاڑ کی چوٹی پر واقع لنڈی کوتل پہنچتی ہے، پشاور ایئر پورٹ سے ہوکر گُذرتی ہے، وہ بھی رن وے کراس کرکے۔۔۔!! ایک دن کوئلے والے دو انجنوں کے زور سے چک چک کرتی ٹرین پہاڑ کی جانب گامزن تھی کی جہاز رن وے پر چلتے چلتے ٹرین سے ٹکرا گیا اور یوں دُنیا کی تاریخ کا انوکھا ترین حادثہ پشاور میں رونما ہوا۔ کئی عشرے پہلے خیبر پختونخوا ہی کے کسی میدانی ضلع میں ایک اور انوکھا ‘ہوائی’ حادثہ پیش آیا، وہ یوں کہ چہاز کے انجن میں خرابی پیدا ہوئی اور وہ زمین کی طرف گرنے لگا زمیں چھونے سے پہلے ہی انجب دوبارہ فعّال ہوا اور جہاز پھر سے فضا میں بلند ہوا تاہم اس سے پہلے وہ کھیت میں کام کرنے والے کسان سے ٹکرا کر اس کی جان لے چکا تھا۔ پچھلی دو دہائیوں میں جتنے ائیرپورٹس بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بند کردئے گئے، ہوا بازی کے حوالے سے شاید یہ بھی ایک ریکارڈ ہو۔ کہتے ہیں، یہ ایئر پورٹس اور ان پر آنے جانے والی فلائٹس منافع بخش نہیں رہی تھیں۔ بند ہونے سے پہلے یہ ائیر پورٹس شاید اسلئے بنائے گئے تھے کہ شہر ترقی کریں گے اور ایک دن وہاں وسیع و عریض ہوائی اڈّے ہونگے جن پر بڑے بڑے جہاز اتریں گے۔ افسوس یہ بصیرت خاک میں مل گئی اور لوگ بے وقت موت اور بھتّے کی پرچیوں سے پناہ مانگنے لگے۔ کیا کاروبار، کیا ترقی اور کیا سیاحت۔۔۔صرف دہشتگردی کی عفریت ہر سو رقص کرتی نظر آنے لگی۔ اسی طرح ایئر پورٹس بنانے اور پھر انہیں بند کرنے کا عالمی ریکارڈ بھی شاید ہمارے پاس ہی ہے۔ اکیسویں صدی میں رہتے ہوئے پاکستان ہی میں ایک صوبائی دارالحکومت یعنی کوئیٹہ کے ایئر پورٹ پر رات کے وقت جہاز نہیں اترسکتے کیونکہ اس پر نائٹ لینڈ نگ کی سہولت موجود نہیں ہے۔
پچھلے چند سال میں رونما ہونے والے واقعات بتاتے ہیں کہ ہم اپنے ہوائی اڈّوں اور جنگی فضائی پٹیوں کی اتنی بھی حفاظت نہیں کرسکے ہیں جتنی عربستان کا ایک بدّو اپنے اونٹ اور خیبر کا آفریدی اپنے ٹرک کی کرتا ہے۔ کراچی کا مہران بیس لے لیں، مٹّھی بر دہشت گرد آئے اور چھا گئے۔ ان سے مقابلہ کرتے ہوئے کئی اپنی جانیں کھو بیٹھے، اربوں روپے کے قیمتی طیّارے تباہ ہوئے۔ دہشت گردوں سے ایئر بیس کا قبضہ چُھڑانے میں بارہ گھنٹے سے زیادہ وقت لگا اور ایک ہزار سے زیادہ مسّلح فورسز نے اس میں حصّہ لیا۔ تباہ ہونے والے انتہائی قیمتی طیّارے جہاں کھڑے تھے، وہ دیکھ کر ایسا لگا جیسے بھینس ایک عارضی باڑے میں کھڑے ہوں۔ یہ طیّارے سمندری حدود کی جاسوسی اور کسی نا پسندیدہ نقل وحرکت کی نگرانی کیلئے خریدے گئے تھے۔ انکی اپنی حفاظت اور نگرانی کا یہ حال تھا کہ حملہ آور ٹوٹے ہوئے کانٹا تار اور چاردیواری کے نیچے موجود پانی کے سوراخ سے اندر داخل ہوئے تھے۔ بعد کی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ حفاظت پر مامور افسر جو دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوا، حملے کے وقت اپنے خاندان سے موبائل فون پر بات چیت کر رہے تھے۔ انکے زیر نگرانی افراد میں سے کچھ کھانا کھا رہے تھے اور شاید کچھ کسی اور سے موبائل پر پات کر رہے تھے کیونکہ کام کے وقت صرف کام تو اپنا قومی شیوہ ہی نہیں۔۔۔یہاں تو ڈکار، پھٹکار اور بول براز سے فراغت تک کو سرکاری وقت کیلئے اٹھا رکھا ہوتا ہے۔ اسلئے تو سرکار کی دُنیا میں حرکت تیز تر اور سفر صفر کا اصول چل رہا ہے۔ کامرہ ائیر بیس پر حملے کی روداد بھی اس سے کچھ مختلف نہ تھی۔ پچھلی صدی، ہوا بازی کے زمانہ جاہلیّت اور دونوں عظیم جنگوں کو چھان مارا جائے تو بھی شاید ہی اس طرح کی مثالیں مل سکیں۔
پشاور ایئر پورٹ کے رن وے سے گُزرنے والی جس ریلوے لائن کا اوپر ذکر ہوا، اسکی وجہ سے درّہ خیبر کی عجوبہ روزگار ٹرین بند ہوئی کہ سُرنگ کی سیکورٹی کلیئرنس نہیں دی گئی کیونکہ یہاں تو طالبان نے بحر ظلمات میں گھوڑے تو کیا دوڑانے تھے، جاپان کے امدادی تحفے سے بننے والے کوہاٹ سُرنگ میں بارود بھرے ٹرک گُھسا کر دھماکے ضرور کر ڈالے۔ شہر کے بیچوں بیچ اور آبادی کے وسط میں واقع پشاور ایئر پورٹ جس مقصد کیلئے گذشتہ کئی دہائیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے، اسکےلئے یہ بنا نہیں تھا۔ یہ ایک دفاعی اور جنگی ایئر بیس تھا اور جس وقت یہ بنا اس وقت یہاں شہر تھا ہی نہیں۔ کسی بھی حکومت کو عقل کا ایسا دورہ نہیں پڑا جس میں وہ فیصلہ کرتی کہ شہر سے باہر جدید خطوط پر ایک نیا ایئر پورٹ بنایا جائے۔ سُنا ہے جب بھی ایسی کوئی تجویز سامنے آئی، وفاقی دائرہ کار کہہ کر جان چھڑائی گئی، کبھی کسی وفاقی ادارے نے کوئی اعتراض لگایا تو کیس لڑنے کی سعی ہی نہیں کی گئی اور یوں یہ معاملہ طاق نسیاں پر ہی رہا۔ عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے جب اس ائیر پورٹ کا نام بدلنے کی ٹھان لی تو پھر معلوم نہیں وفاقی عامل کہاں گیا۔۔۔ مگر نام بدلنے سے کچھ بدلتا تھوڑی ہے۔ نام بدلنے سے پختونوں کی کیا خدمت ہوئی۔ پشاور ایئر پورٹ پر دُنیا بھر کی فضائی کمپنیوں کے رنگ برنگے جہاز صبح شام اُترتے تھے جبکہ باچا خان انٹر نیشنل ائیر پورٹ پر اب سعودی عرب سمیت تمام ملکوں کی فضائی کمپنیوں نے اپنی سروس معطّل کردی ہے۔ ملکی اور صوبائی بدنامی سے قطع نظر، کتنے پختونوں کا معاشی قتل عام ہوگا اس سے۔ گذشتہ کئی سالوں سے پشاور پہلے ہی ایک بھوت شہر کا منظر پیش کر رہاتھا۔ مشہور کاروباری ادارے یہاں سے ہجرت کر چکے ہیں، کتابوں کی دُکان اور ٹیلرنگ شاپس تک یہاں سے دیگر شہروں میں منتقل ہوئے، کیا بنے گا ان سینکڑوں ہزاروں ٹیکسی ڈرائیوروں، خوانچہ فروشوں اور دیگر لوگوں کا جنکا روزگار جہازوں کی آمد و رفت سے وابستہ تھا۔ کیا بنے گا اُن لوگوں کا جو پشاور ایئر پورٹ پر اتر کر ایک گھنٹے سے لیکر چند گھنٹوں کی مسافت پر واقع اپنے گھروں کو جاتے تھے۔ اب وہ اسلام آباد اور لاہور کے ہوائی اڈوں پر اتر کر لمبے چوڑے سفر کریں گے۔ پنجاب پولیس انہیں جگہ جگہ ذلیل کریگی اور کسٹم ایکسائز کے گدھ کوّے انہیں نوچیں گے۔ کاش ماضی اور حال کی حکومتیں انٹرنل سیکورٹی پر خاطر خواہ توجّہ دیتیں۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ پشاور کے علاوہ صوبے کے شمال اور جنوب میں ملاکنڈ اور بنوں میں واقع غیر فعّال ایئر پورٹس کو توسیع دے کر قریبی اضلاع میں رہنے والوں کو مزید سہولیات فراہم کی جاتیں، اُلٹا پشاور کا اکلوتا ایئر پورٹ بھی بند نام ہوکر سمجھو بند ہی ہوگیا۔ زمین سے فائرنگ کرکے ہوائی جہاز میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو مارنے کا واقعہ دُنیا میں یقینا انوکھا اور اکلوتا ہی ہوگا۔۔۔کیوں نہ پھر فضائی کمپنیاں اپنی سروس معطل کریںگی۔۔۔۔
پشاور کی سیاہ بختی کا ماتم کرتے کرتے ہم لاہور ایئر پورٹ کا قائم کردہ ریکارڈ تو بھول ہی گئے۔ ویسے تو چند دن پہلے قادری بحران سے نمٹنے کیلئے پرواز کو اسلام آباد سے لاہور کی طرف موڑنا اور پھر پانچ گھنٹے تک طیّیارے کو یرغمال بنائے رکھنا بھی کسی ریکارڈ سے کم نہیں تاہم اصل عالمی ریکارڈ والا مواد اس وقت سامنے آیا جب چند سال پہلے ائیر پورٹ کے قریب آبادی میں ایک چھت سے ایک نوجوان کی مسخ شدہ لاش پرآبد ہوئی۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ نوجوان جہاز سے گرا تھا۔ شواہد اس طرف جا رہے تھے کہ اس نے اُڑان بھرنے والی مقام سے جہاز کے پہیوں کے ساتھ چمٹنے کی کامیاب کوشش کی تھی، اُسے یہ معلوم نہیں تھا کہ اس طرح وہ جہازکے ساتھ زیادہ نہیں اڑسکے گا اسلئے گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اطلاعات کے مطابق نوجوان کا ساتھی جس کے ساتھ مل کر اس نے منصوبہ بنایا تھا، بھی ٹریس ہو گیا تھا جس نے واقعات کی تصدیق کردی تھی مگرشاید بین الاقوامی بدنامی کے ڈر سے اس واقعے پر ‘مٹی پاؤ’ کا اصول لاگو کردیا گیا۔ شکر ہے یہ آئیڈیا کسی خود کش حملے میں استعمال نہیں ہوا ورنہ کیا عالمی ریکارڈ بنتا۔۔۔جہاز کا مسافر بنے بغیر ہوا میں جہاز کو خود کش حملے میں تباہ کرنا۔۔۔ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں۔۔۔کون کہتا ہے ہم صرف سر سے اخروٹ توڑ کر بے تُکے عالمی ریکارڈ بنا رہے ہیں، اصلی تے وڈے عالمی ریکارڈ بھی ہیں ہمارے پاس۔۔۔!!

Posted in Uncategorized | Tagged , , , , , , , , , , , , , | تبصرہ چھوڑیں